شیموگہ:7؍ فروری (ایس اؤ نیوز) اُڈپی سرکاری پی یوکالج سے شروع ہواحجاب مخالف معاملہ اب ریاست کے مختلف کالجوں میں بھی پھیلتےہوئے تعلیمی ماحول میں فرقہ وارانہ زہر گھول رہاہے۔ اب تازہ معاملہ شیموگہ کی مشہور و معروف اور تاریخی سہیادری کالج سے سامنے آیا ہے جہاں حجاب اور کیسری شال کا سنگھرش شروع ہوگیا ہے۔
کالج کی مسلم طالبات جب ہمشیہ کی طرح باحجاب کلاسس میں داخل ہوئیں تو ان کی مخالفت میں کچھ لڑکوں نے کیسر ی شال پہن کر کالج پہنچے او کالج کے باہر ہنگامہ شروع کیا۔ کیسری شال پہنے لڑکوں نے مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت نہ دینے اور حجاب نکال کر کلاس میں داخلہ ہونے کی ضد کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا۔ معاملے کو دیکھتے ہوئے جب مسلم طالبات کو حجاب اُتارنے کے لئے کہا گیا تو طالبات نے حجاب اُتارنے سے انکار کردیا جس کے بعد طالبات کو باحجاب کلاسس میں داخل ہونے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے طالبات کو کلاسس سے باہر جانا پڑا۔
کالج پرنسپال پروفیسر وینا نے بتایا کہ کرونا وباء کے بعد لوگوں کی مالی حالت ابتر ہونے کی وجہ سے یونیفارم لازمی نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اب سب کے لئے یونیفارم لازمی کیا گیا ہے۔ طلبا کے لئے لازمی ہے کہ وہ یونیفارم پہن کر ہی کالج میں داخل ہوں۔ کالج میں مسلم طالبات کو بھی اپنا حجاب نکال کر رکھنے کےلئے ایک کمرہ مختص کیاگیا ہے جہاں طالبات اپنا حجاب اتار کر رکھ سکتی ہیں اور کلاس میں داخل ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں کوئمپو یونیورسٹی کی طرف سے حجاب کے متعلق کوئی سرکلر موصول نہیں ہوا ہے۔ دوسری طرف کالج عملہ اور پولس لڑکوں اور مسلم طالبات کو سمجھانے میں مصروف دیکھا گیا۔